Wednesday, 1 March 2017

محمد وقاص :پروفائل: سید اویس شاہ Muhammad Waqas



محمد وقاص

رول نمبر: 2k15/mc/61
پروفائل: سید اویس شاہ

       

     زندگی نام ہی پریشانیوں کا ہے مگر ان پریشانیوں سے لڑنا بھی انسان پر ہی عائد ہوتا ہے کیوں کہ انسان میں اتنی سقت تو ضرور ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں آنے والی پریشانیوں سے لڑ کر خود کو کامیاب کر سکتا ہے اور یہ کہنا درست بھی ہو گا جو انسان ان پریشانیوں سے لڑتا ہے وہ زندگی میں آنے والی مشکلات کے باوجود گہرے سے گہرے پانی میں پھنسی کشتی کو پار لگا کر کامیابی کے کنارے لگا کر ہی دم لیتا ہے ہمارے سامنے دنیا بھر میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں زندگی کی نیا شدید طوفان میں سے نکال کر کامیابی کی منازلیں عبور کی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں کئی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں بہت مشکلات دیکھیں کئی پریشانیوں کا سامنا کیا ہر حالات میں ڈٹے رہنے کا عہد ان کے پختہ عزائم کے آگے ہار ماننے ہر مجبوب ہو گیا ان کے کے عزایم بلند تھے اس ہی لئے جب تک انہوں نے انہوں نے اپنی زندگی کی گاڑی کو کامیابی کی راہ پر گامزن نہیں کیا ہار نہیں مانیاور اپنے حالار کا رونا روئے بغیر خود کو ثابت قدم رکھ کر ہر میدان میں اپمی
کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ایسی ہی ایک مثال جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے ۹۸۹۱ میں حیدرآباد میں پیدا ہونے والے سید اویس شاہ نے ۵۰۰۲ میں لطیف آباد کے ایک پرائیوٹ اسکول لطیف نیازی سے میٹرک کیا اور پھر مزید پرائیوٹ تعلیم کے اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور گھر کے معاشی حالات دیکھتے ہوئے گورنمنٹ کالج سے مزید تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور گورنمنٹ کالج کالی موری میں انٹر میڈیئٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لیا۔ 
گھریلو وسائل کی کمی کے باعث دوران تعلیم ہی سید اویس نے کام کاج کرنے کی ٹھانی اور بچوں کو ہوم ٹیوشن پڑھائی ۷۰۰۲ میں ایٹر میڈئیت کی تعلیم مکمل کی سید اویس کو بچپن سے ہی میڈیا میں کام کرنے کا شوق تھا تو سیا اویس نے سندھ یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں داخلہ لیا محنت و لگن سے تعلیم حاصل کرنے میں لگے رہے اور اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام کاج کر کے اپنی تعلیمی اخراجات خود برداشت کئے ۲۱۰۲ میں یونیورسٹی سے بیچلر کی میں صنعت ملی اور ۳۱۰۲ میں ایکسپریس نیوز سے منسلک ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
دو سال ایکسپریس نیوز میں (پروگرامنگ پروڈیوسر)کی حیثیت سے کام کیا اور پھر دل میں خیال آیا کہ اب انہیں اپنی قوم و شہر کے لئے فلاحی کام کرنا چائیے ۴۱۰۲ میں ملازمت چھوڑی اور ایک سماجی مھم کا آغاز کیا کیونکہ سید اویس شاہ کا تعلق حیدرآباد سے تھا تو اسی لیے حیدرآباد سے اپنی مہم شروع کی اور میرا حیدرآباد کے نام سے مہم چلائی اور شہر حیدرآباد کی عوام کے لئے بھرپور کام کیا کچھ ہی ماہ گزرے تھے۔
سید اویس کو پیسوں کے مسائل کا منہ دیکھنا پڑا کسی بھی فلاحی کام کر نے کے لئے پیسوں کی ضرورت لازمی ہوتی ہے نہ تو سید اویس کے ہاس اتنے پیسے تھے اور نہ ہی خاص ذاتی وسائل تھے تو سید اویس شاہ نے کراچی جا ر نوکری کی تلاش شروع کر دی اکتوبر ۵۱۰۲ میں پاکستان کی مشہور میں ایکٹر ان لا میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا کیون کہ اویس شاہ کو بچپن سے ہی میڈیا انڈسٹری میں کام کرنے کا شوق تھا تو آپ نے اس پروجیکٹ میں دل لگا کر کام کیا اور کام کے مکمل ہونے تک صبح و شام ایک کر کے اس فلم کا کام مکمل کیا ۶۱۰۲ میں فلم کا کام مکمل کر کے اپنا طہ شدہ معاوضہ لے کراہنے شہر واپس آگئے۔
گھر میں فارغ بیٹھے تھے تو سید اویس نے گھر میں فارغ بیٹھنے سے بہتر مزید تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا سید اویس کا ارادہ تھا کی کسی بیرونی ملک جا کر مزید تعلیم حاصل کریں سید اویس نے جرمنی کے ویزے کے کئے اپلائے کیا اور ویزہ آنے کے بعد ایم۔فل کرنے کے کئے جرمنی روانہ ہو گئے اور آج کل سید اویس جرمنی میں ایم۔فل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔! 

یاسر گل:آرٹیکل :سندھ کا پرائمری تعلیمی ڈھانچہ - Yasir Gill



آرٹیکل :سندھ کا پرائمری تعلیمی ڈھانچہ

یاسر گل(MC#64 2K15/PART:III )
سندھ کا پرائمری تعلیمی ڈھانچہ 



تعلیم اپنے وسیع طر معنوں میں وہ چیزہے جس کے ذریعہ ہم دنیا کو تبدیل کرسکتے ہیں، تعلیم انسانی زندگئی کا اہم جزو ہے،تعلیم کا دائرہ بہت وسیع ہے اس کو جتنا حاصل کریں گے اتنا ہی کم ہے۔تعلیم کی بدولت ہی جاپان اور امریکہ جیسے ممالک ترقی کی بلندیوں پر ہیں ۔پو ری دنیا میں تعلیمی نظام کو بنیا دی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں پرائمری،مڈل،اور ہائر سطح کے نظام شامل ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت پرائمری درجہ کی تعلیم کو دی جا تی ہے ،پرائمری درجہ ہی اعلیٰ تعلیم کی بنیا د ہوتا ہے،اگر بنیا د اچھی ہوگی تو مستقبل اچھا ہوگااگر بنیا د خراب ہوگی تو مستقبل خراب ہوگا۔
وطن عزیز پاکستان تعلیم کے شعبہ میں بہت پیچھے ہے ،پاکستان کے آئین کے آرٹیکل A-25 کے مطابق ہر مرد وعورت کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے ،مگر حکومت وقت کی عدم توجہ کی وجہ سے ملک میں تعلیم کی شرح صرف57% ہے جوکے عام طور پر تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کی بات کریں تو صوبے کے بڑے مسائل میں سے ایک تعلیم بھی ہے۔صوبہ سندھ میں تعلیم کی شرح69% ہے جس میں بہتری کی اشد ضرورت ہے ۔صوبے میں پرائمری سطح کے تعلیمی نظام کی بات کریں تو صوبے میں پرائمری اسکولوں کی تعداد 47804ہے ،سندھ کے 149بلین کے تعلیمی بجٹ میں سے 57بلین یعنی 38%حصہ پرائمری درجہ کے لیئے مختص کیا گیا ہے،لیکن کارکردگی کی بات کریں تو آپ اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ سندھ گورنمنٹ ریفورم سپورٹ یونٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پانچویں جماعت کے صرف 21% بچے اردو اور سندھی پڑھ سکتے ہیں ،اگر سارے مضامین کی بات کریں توجماعت پنجم کے بچوں کی کارکردگی سائنس میں 19% ،زبان میں 35%،اور ریا ضی میں 15%رہی،اور اسی جماعت کے بچے انگریزی کا جملہ پڑھنے سے قاصر تھے ۔
آپ حیران ہوں گے کہ سندھ میں تعلیم کے ٹوٹل بجٹ سے پرائمری درجہ پر38% خرچ ہو رہا ہے لیکن بچوں کی کارکردگی اتنی خراب کیوں ہے؟اگر حقائق جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ حکومت پرائمری تعلیم کے بجٹ کا 93% حصہ ،اساتذہ کی طربیت اور اسکولوں کے انفراسٹریکچرکو نظر انداز کرتے ہوئے ،صرف اساتذہ کی تنخواہوں پر خرچ کر رہی ہے۔ایک نجی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پانچویں جماعت کے بعد بچوں کااسکولوں کو چوڑھنے کی شرح حیدرآباد میں 34%،دادو اور بدین میں 27% ہے،جو قابل تشویش ہے۔اگرسندھ حکومت ڈولیپمنٹ پر خرچ نہیں کرے گی تومستقبل میں تعلیم کی فراہمی میں مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ سندھ حکومت نے حال ہی میں صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی ہے جس کے تحت مختلف قسم کے پروگرام شروع کیئے گئے ہیں جو قابل تعریف ہیں ،لیکن جب تک عملی طورپرائمری درجہ کی تعلیم کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی جا ئے گی تب تک مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے رہیں گے۔حکومت سندھ سے درخواست ہے کے پرائمری نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لیئے مزید اقدامات کرے۔

احسن علی : پروفائل: ڈاکٹر محمد طارق ارشد - Ahsan Ali


پروفائل نام :احسن علی رول نمبر:2K15-M.C-09



ڈاکٹر محمد طارق ارشد:قتیل !وقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں
جی ہا ں جب اِس دور میں ڈاکٹروں نے قصابوں کی سی شکل اختیار کرلی ہے اور آئے دن ڈاکٹر فلاں فلاں مطالبات کے لئے ہڑتالیں کرتے نظر آتے ہیں اور بہت سی جگہیں تو زخموں کو بھرنے کے بجائے زخم کرتے نظر آتے ہیں ۔اِس دور میں کچھ ایسے ڈاکٹر صاحبان بھی موجود ہیں جو اس کے بر عکس ہیں جنہوں نے اپنی سا ری زندگی انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کر دی اور وہ ہمہ وقت انسانیت کی خدمت کے جذبے 
سرشار رہتے ہیں ۔
ان میں سے ایک ڈاکٹر طارق ارشد بھی ہیں جنہوں نے 3 دسمبر1965 ؁ میں حیدرآباد کے ایک پڑھے لکھے گھرانے میں آنکھ کھولی ابتدائی تعلیم حیدرآباد میں حاصل کی۔F.SC کے لئے کیڈٹ کالج پٹارو میں داخلہ لیا اس کے بعد ڈاکٹری پڑھنے کا آغازلیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز سے کیا پھر1991میں ہاوس جاب شروع کی اور آخر کا ر 2000میں سول ہسپتال میں نوکری شروع کی لیکن وہ آرام وآسائش کے عادی نہ تھے اور کچھ عرصے بعد ہی انہوں نے نوکری کے ساتھ ساتھ مختلف جگہوں پر فری صحت کیمپ لگانے کا سلسلہ شروع کیا اس میں ان کوبڑی پذیرائی ملی وہ بلکل سادہ اور مصروف زندگی گزارنے کے عادی ہوچکے تھے ۔ا ن کو انسانی قصاب بننے کے بہت مواقع ملے لیکن انہیں انسانی خدمت کاپیشہ ہی پسند آیا پھر انہوں نے لطیف آباد میں اپنا نجی کلینک کا آغاز کیا جس کی فیس غریب آدمی کی پہنچ میں ہے لیکن وہ غریبوں کا علاج بلا معاوضہ کرتے ہیں ان کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ہر شخص خواہ امیر ہویا غریب سب کے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب اپنا قیمتی وقت اہل وعیال ، دوستوں اور آرام وسکون کے لئے وقف کرنے کے بجائے انہوں نے ان مریضوں کے نام کردیا ہے جو زمانے کی چیر ہ دستیوں کے باعث دل گرفتہ اور مجروح ہیں ۔
وہ ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ ایک مہربان باپ،مشفق بھائی اور بہترین ا نسا ن بھی ہیں جبکہ اس نفسا نفسی کے دور میں سب کو اپنی پڑی ہے ۔ڈاکٹر صاحب سفید لبا س میں ملبوث ،ناک پر عینک ٹکائے ،ڈھیر سارے مریضوں کے درمیاں چاند کی طرح چمکتے دکھائی دیتے ہیں ۔وہ اوقات سے پاک ڈاکٹر ہیں کیونکہ وہ ہر وقت مریضوں کے لئے دستیاب ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کا گھر ،گھر نہیں بلکہ ایک میڈیکل سینٹر کا سا نظارہ پیش کرتا ہے یہ میڈیکل سینٹر دراصل ڈاکٹر صاحب کا عشق وجنون ہے جو انہیں اپنی اولاد کی طرح پیارا ہے ۔
انہوں نے صحت کے میدان کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا ۔ و ہ عوام میں مختلف بیماریوں کی آگاہی کے لئے ہفتہ وار کیمپ کا انعقاد کرتے ہیں او ر لوگ ان کی اس کاوش کو خوب سراہتے ہیں اور مستفید ہوتے ہیں ۔ ان کی شخصیت اور مشنقانہ رویے کو دیکھتے ہوئے بے ساختہ ذہن میں یہ شعر آتا ہے کہ :جو ہم نہ ہوں ،تو زمانے کی سانس رک جائے۔۔۔۔۔۔۔ قتیل !وقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں ۔

امرا شیخ : پروفائیل:ڈاکٹر نصراللہ کابورو - Imara Shaikh



امرا شیخ (2k15/mc/34) bs III پروفائیل

ڈاکٹر نصراللہ کابورو 

صوفیوں کی سرزمین کے نام پر پوری دنیا میں جانے ،جانے والا سندھ ،جس کی مٹی میں خشبو تو ضرور ہے پر اس دھرتی کی سرزمین میں مزدوری کرنے والے کسان سمیت دیگر پیشو ں سے تعلق رکھنے والے افراد کے پسینے میں بھی کامیابی کی خشبو بکھرتی ہے ،جہاں شاہ لطیف ،سچل سامی اپنا اک الگ الگ کردار رکھتے ہیں ،وہاں شہید مخدوم بلال بھی امر کردار ہیں۔ایسے ہی مخدوم بلال کے گاؤں گوٹھ فضل کابوروسے جنم لینے والے اک مزدور کے گھر آنکھیں کھولنے والے نصراللہ کابورو بھی اپنے آپ میں اک رول مڈل ہیں۔
ہنس مکھ اور خوش طبیعت یافتہ اور (phd)ہلڈر نصراللہ کابورو ان شخصیات میں شمار ہیں جنھوں نے اپنا کردار نبھایا ہے،خوش مزاج طبیعت رکھنے والے اور مسکراہٹ کے بے تاب بادشاہ کی اصل ذندگی کی کہانی رولا دینے والی ہے۔ 
ڈاکٹرنصراللہ کابورو نے ابتداء تعلیم اپنے گاؤں سے ہی حاصل کی اور انٹر گورنمنٹ کالج قاسم آباد سے کیا،کالج
لائف میں انکے مالی حالات بہتر نہ تھے،آگے بڑھنے کی جستجو 
اور اس امید کے ساتھ کے پاپا کہتے ہیں بڑاکام کریگا ،اس اک لائن کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر نصراللہ کابورو نے یونیورسٹی اآف سندھ جامشورو میں شعبہ مسلم ہسٹری میں داخلہ حاصل کیا ،ڈاکٹر نصراللہ کابورو نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوری بھی کی ، صبح یونیورسٹی جایا کرتے اور شام میں گارڈ کی نوکری کیا کرتے تھے ،انھیں پڑھنے اور آگے بڑھنے کا جنون اس حدتک تھا کے اک بار تیز بارش میں بھی ڈاکٹر نصراللہ کابورو یونیورسٹی کلاس لینے آئے ،انکا یہ جذبہ دیکھکر انکے ڈین نے انھیں خوب سراہا اور شاباشی دی اور آگے بڑھنے میں بھرپور ساتھ بھی دیا ،اور پھر نصراللہ کابورو کامیابی کی سڑھیاں چڑھتے چلے گئے۔شعبہ مسلم ہسٹری میں انھوں نے (MA)کیا پھر اسی شعبہ میں(M.PHIL)کیا اور اب اساتدہ اور والدین کی دعائیں اور بے حد محنت و مشققت کی بدولت (phd)یافتہ ہیں،اور شعبہ مسلم ہسٹری میں اب پروفیسر کے عہدے 
پر فائز ہیں،اور طلباء کو بھی لگن اور محنت سے پڑھنے آگے بڑھنے اور کچھ بن کر دیکھانے کا درس دیتے ہیں ،یہی وجہ ہے کے انکی مائنر کلاس میں بھی طلباء کی تعدادپانچ سو سے ذائد ہوتی ہے۔
ڈاکٹر نصراللہ کابوروکا بچپن سے لیکر پروفیسر تک کے سفر میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے ،لیکن نصراللہ کابورو نے کبھی بھی مایوسی کا دامن نہیں تھا ما ،ہمیشہ خوش اخلاقی ،خوش مزاجی کا دامن تھامے رکھا،اور جن لوگوں نے ان پر احسانات کیے ہیں ہمیشہ انکے شکر گزار رہے ہیں ،ضروری نہیں کے امیر کا بیٹا ہی کامیابی حاصل کرے اک پروفیسر بنے یا اعلیٰ تعلیم حاصل کرے،اک مزدور کا بیٹا بھی محنت کر کے ڈاکٹر پروفیسر بن سکتا ہے ،اس بات کی ذندہ مثال ڈاکٹرنصراللہ کابورو خود ہیں، 
علم میں دولت بھی ہے،عزت بھی ہے،لذت بھی ہے،
ایک مشکل ہے کے ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ 

انڑ و یو :احسن علی: بینک مینیجر ساجد علی قائمخانی - Ahsan Ali



 
انڑ و یو: بینک مینیجر ساجد علی قائمخانی نام:احسن علی

رول نمبر: 2 K15-MC-09

مایوسی کفر ہے!

ساجد علی قائمخانی 12مارچ1975کو حیدرآباد کے علاقے پریٹ آباد میں پیدا ہوئے ۔انھوں نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد سے ہی حاصل کی اور جامعہ سندھ سے بی کام میں گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی وہ بطور مینیجر بینک اسلامی میں نوکری کر رہے ہیں ۔
س۔آپ کا رجحان بینکنگ کی طرف ہی کیوں رہا؟
ج۔میرے والد صاحب بھی بینک میں چپڑاسی کی نوکری کرتے تھے میں جب ان کو دوپہر کا کھا نا دینے جاتاتھاتو میرے والد مجھے نصیحت کرتے تھے کہ بیٹا تعلیم حاصل کرو نہیں تو تمہیں بھی میری طرح ذلت کی نوکری کرنی پڑے گی ۔بس وہی سے میں نے بینک میں اونچی پوسٹ پر جانے کا خواب سجایا اور انتھک محنت کی اور کامیاب ہوا۔
س۔بطور منیجر آپ کو کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟
ج۔لوگ تو سمجھتے ہیں کہ مینیجر کوئی کام نہیں کرتا دراصل مینیجر کی نوکری چوکیدار کی سی ہوتی ہے جو بینک میں کام کرنے والوں پر نظر رکھتا ہے اور کبھی کبھار اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کوئی بینک کے عملے کے خلاف شکایت کرتا ہے تو بطور منیجر یہ شرمندگی کا باعث ہوتا ہے۔
س۔ اسلامک بینکنگ میں اور کنوینشنل بینکنگ میں کیا فرق ہے؟
ج۔ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سلامک بینکنگ اسلامی شریعت کے اصولوں پر مبنی ہے اور کنوینشنل بینکنگ انسان کے تشکیل کردہ اصولوں پر مبنی ہے اور یہ زیادہ تر سرمایہ داری کے اصولوں پرکام کرتی ہے۔
س۔کیا اسلامک بینکنگ سود سے پاک ہوتی ہے؟
ج۔ یہ ایک نظریاتی اور سوچ سمجھ کا مسئلہ ہے کہ پاکستان میں جتنے بھی بینک کام کرتے ہیں وہ سب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسیوں کے تحت کام کرتے ہیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان مکمل طور پر سود پر کام کرتا ہے۔
س۔اسلامک بینکنگ میں منافع کس چیز کو کہتے ہیں ؟
ج۔ اسلامک بینکنگ میں منافع وہ ہے جو انویسٹر بینک میں منافع کی غرض سے اکاؤ نٹ میں پیسے جمع کرواتا ہے تو اس پر جو وہ اضافی رقم لیتا ہے وہ منافع کہلاتا ہے۔
س۔منافع اور سود میں کیا فرق ہوتا ہے؟
ج۔منافع اور سود میں بنیادی فرق یہ ہے کہ منافع میں سرمایہ کار جو رقم بینک میں جمع کراتا ہے تو بینک والے وہ رقم کسی کاروبار میں لگاتے ہیں اگر اس کاروبار میں فائدہ ہوا ہے تو اس کا کچھ حصہ اس سرمایہ کار کو مل جائے گا اگر کا روبار میں نقصان ہوگا تو وہ بھی آپس میں شئیر کیا جائے گااور کبھی کبھی تو جو رقم بینک میں جمع کرائی ہوتی ہے وہ بھی نقصان کی نظر ہوجاتی ہے اسلامی بینکنگ میں کوئی بھی چیز طے شدہ نہیں ہوتی ۔اور سود اس کے بر عکس ہوتا ہے سود میں ہمیں بینک فائدہ کی ضمانت دیتا ہے اور اس میں اس ملنے والی رقم ہمیشہ طے ہوتے ہے۔
س۔نوجوانوں کو کوئی پیغام دینا چاہے گے؟
ج۔جی بلکل !بس یہی کہوں گا کہ کبھی بھی مایوس نہ ہوں کیونکہ مایوسی کفر ہے اور ہمیشہ ثابت قدم رہیں اور محنت سے منہ نا موڑے کیونکہ محنت میں ہی عظمت ہے۔

محمد وقاص : ماربل مارکیٹ مکی شاہ - Muhammad Waqas



 محمد وقاص 

رول نمبر :2k15/61/MC


ماربل مارکیٹ مکی شاہ


آج کل ہمارے لوگوں کا رجحان نت نئے ڈیزائن کے گھر بنوانے کی طرف بڑھتاجا رھا ھے تو وہیں 
ان گھروں کی خوبصورتی کو بڑھانے میں قدرتی پتھروں کا استعمال کی ٖضرورت بن چکا ہے اور ان 
پتھروں کو مارکیٹوں میں ماربل کا نام دے کر فروخت کیا جا رہا ھے ماربل کا استعمال دنیا کے کئی ممالک میں ھوتا ھے اور اب پاکستان میں بھی ماربل کے استعمال میں کافی حد تک اضافہ ہو چکا ہے لوگ اپنے گھروں کو اچھے سے مزید اچھا کرنے کے لئے خوب پیسہ خرچ کرتے ہیں۔

پاکستان دنیا کا وہ ملک ہے جہاں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں اللہ تعالی نے پاکستان کو بے حد قدرتی وسائل سے نوازا ہے اور ان نعمتوں کا ذکر بہت وسیع ہے اسی بنیاد پرمکی شاہ حیدرآباد کی ماربل مارکیٹ پاکستان کی بڑی مارکیٹ ہے۔اگر حیدرآباد کا ذکر کیا جائے اور اس ماربل مارکیٹ کی بات نا کی جائے توشہر حیدرآباد کے
ساتھ نا انصافی ہو گی۔

ٹہنڈی ہواؤ کے شہر کے بلکل عین میں واقع ماربل مارکیٹ پورے شہر بلکہ سندہ کے کئی علاقوں میں مشہور ہے اور تقریبا 35 سال سے مکی شاہ روڈ پر واقع ہے اور اسی مارکٹ سے سندھ کے کئی شہروں میں سپلائی کی جا تی ہے جب بھی کبھی حیدرآباد ہو یا اسکے قریبی علاقے یا پھر اس صو بہ کے دوسرے شہر کے لوگوں کو اپنے گھروں .مساجدوں .مزاروں یا دوسری جگہوں پر استعال کرنے کے لئے ماربل کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ اس شہر کی ماربل مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں کیوں کہ یہ مارکیٹ یہ مارکیٹ صوبہ سندھ کی دوسری مارکیٹ ہے ۔
یہاں اعلی معیار کا پتھر انتہا ئی مناسب قیمت میں مل جاتا ہے جو پتھر اس مار کیٹ میں فروخت ہوتا ہے وہ ملک کے دیگر علاقوں اور دنیا کے کئی ممالک سے یہاں برآمد کیا جاتا ہے مگر چائنا . اندیا . پشاور. زیارت .مردان سے جو پتھر آتا ہے خریدار ان علاقوں کے پتھر کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اس مارکیٹ کے چھوٹے طبقے کے دکاندار کراچی کی منگوپیر کی ماربل مارکیٹ سے مال لایا جاتا ہے اور پھر یہاں سے فروخت کیا جاتا ہے اس مارکیٹ میں بیگ وقت چونسٹ (۴۶) قسم کے ماربل دستیاب ہیں
(وائٹ مالا گوری .پشاور . اور زیارت وائٹ ) ماربل اس مارکیٹ کی شان ہیں اور یہ اس مارکیٹ کا اہم اور مہنگا ترین پتھر ہے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے پتھروں میں ٹروینہ . ٹپی . بوٹا سینہ ہیں کیوں کہ یہ ماربل باقی ماربل کی با نسبت سستے ہیں اوریہ با آسانی مارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں ان پتھروں کے دام کم ہیں اس لئے لوگ بھی انہیں زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔
اس مارکیٹ میں تقریبأ با ئیس (۲۲)قسم کے اپمورٹڈپتھر بھی فروخت کیے جاتے ہیں ان پتھروں میں بلیک گلیکسی . بلیک پرل . کشمیری وائٹ . امپیریل وائٹ. روسی پنک اور بھی اقسام کے پتھر یہاں فورخت کیے جاتے ہیں ان پتھروں کی قیمت چھ سو روپے سے لیکر اٹھارہ سو روپے اسکوئر فٹ تک ہے مکی شاہ کی ماربل مارکیٹ میں تقریبا ایک سو بیس (۰۲۱) ہیں اور ان دکانوں پر کم و بیش (۰۰۷)سات سو مزدور کام کر رہے ہیں ۔ 
اس مارکیٹ میں کام کرنے والے کاریگروں کی ما ہا نہ آمدنی پندرہ ہزار (۰۰۰۵۱) ہے ارو تقریبا دو سو (۰۰۲) مزدورلوڈنگ ان لوڈنگ کا کام سرانجام دے رہے ہیں جن کی آمدنی (۰۰۵) سے (۰۰۷) روپے روزانہ ہے اس ماربل مارکیٹ کی پریشانیوں کے حل کے لئے (آل پاکستان ماربل ایسوسی ایشن حیدرآباد )مارکیٹ کے دکانداروں کی پریشانیوں کے حل کے لئے کام کرتی ہے 
اور تو اور دکانداروں کو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بہت پریشان ہیں دن میں کئی کئی گھنٹے لائٹ نہیں ہوتی حالاں کہ صنعتی علاقوں میں مسلسل چوبیس (۴۲) گھنٹے بجلیا کی فراہمی کرتا ہے مگر ماربل مارکیٹ منی انڈسٹریل ایریا ہونے کے با وجود اس علاقے میں آٹھ (۸)سے دس (۰۱) گھنٹے لائٹ نہیں ہوتی جس سے اس مارکیٹ کے تاجروں کو کاروبار میں نقصان اٹھانا پڑھتا ہے ۔
ماربل کی کٹائی سے جو کچرا نکلتا ہے اسکو ضائع کرنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد نہیں کی جاتی اور سارہ کچرا مارکیٹ کے ساتھ والے گراؤنڈمیں جاتا ہے دکانوں کی پوری جگہ نہ ملنے کی وجہ سے دکاندار مال باہر نکانلے پر مجبور ہیں جسکی وجہ سے اینٹی انکروچمنٹ کی جانب سے بھی ان دکانداروں کو اکثر تنگ کیا جاتاہے۔۔۔

پروفیل جنید برمانی : پروفیل شیراز خان - Juanid Birmani



پروفیل جنید برمانی :BS/Hons/Part-III


سچی لگن اور محنت سے نا م کمانے والے شیراز خان 

بعض لوگ ہر چیز میں اپنا فائدہ تلا ش کرتے ہیں اگر کہیں سمجھوتہ بھی کرنا پڑے تو اس بات پر سمجھوتہ کرتے ہیں جس کے بدلے مں انہیں کوئی قربانی نہ دینا پرے اور کچھ لو گ تو ایسے بھی ہیں جو سمجھو تہ بھی
کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں یا کوئی قربانی بھی دے دیتے ہیں ، اجکل کے دور میں ایسے انسا ن کا ملنا نا ممکن ہے جو اپنے آپ سے زیادہ اپنے گھروالوں کی خوشی کا خیال رکھتا ہو۔ جس نے اپنے گھر والوں کے لیے بے پنا ہ قربانیاں دی ہوں اور آج تک دے رہا ہے ۔ 
25 سال شیراز خان جو کہ شہر حیدرآباد کے علاقے جی -او -آر کالونی میں رہائش پذیر ہے ۔ انہوں نے پانچویں تک تعلیم حاصل کی پھر گھر کے حالات کی وجہ سے ان کو اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی اور انہوں نیے کمانے کا سوچا اور ایک گیراج میں پندرہ روپے روز پر مزدوری کرنا شروع کی ، آہستہ آہستہ سیکھنے کے بعد انہوں نے اپنے دوست کے سا تھ مل کرایک چھوٹا سا گیراج کھول لیا اور اور انتھک محنت اور ایما نداری سے کام کرنے لگا اور اس محنت اور یماندار ی کی وجہ سے مارکیٹ میں کافی عزت بنالی اور ترقی کرتے ہوئے اپنے کاروبار کو آہستہ آہستہ وسیع کرتے رہے ان کی زندگی کا مقصد تھا تو یہ کہ وہ اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو دنیا کی ہر خوشی اور ہر نعمت کے سا تھ ساتھ مو جودہ دور کی تمام تر سہولیا ت فر اہم کر سکے ۔ 
شیر از خان کے دوست جب کہیں با ہر گھومنے جا تے تو اسے بہت بولتے کے ہمارے سا تھ گھومنے چلو اور اس کا بھی کبھی کبھی دل کر تا کہ سارے کام چھوڑ چھا ڑ کر اپنے دوستوں کے سا تھ سیر و تفریح کیلئے جاؤں ، لیکن اچانک اس کو گھر کے حالات یا د آتے اور انکا ضمیر ا ن سے کہتا اٹھتا کہ اگر محنت مزدوری چھوڑدی تو ان کے چھوٹے بہن بھا ئیوں کی طرف کون شفقت کا ہا تھ پھر ے گا جن کا گزارا ولد کی معمولی سی آمدنی سے پورا نہیں پڑتا اور یہ سوچ اس کے قدم روک لیتے اور وہ تمام چیزوں کو بھول کر صرف کام پر دیہاں دیتے یا ر ہر وقت کماتا ہی رہے گا کیا کبھی اپنے لیے بھی جیا کر گھو ما پھیر ا کر زندگی کے مزے لیا کر لیکن وہ کسی کی باتوں پر زیا دہ دھیاں نہیں دیتا اور اپنے مشن کو جا ری رکھتے ہوئے نہ دن دیکھتا اور نہ رات نہ گرمی اور نہ سردی میں کئی کئی گھنٹوں تک مسلسل کام کرتا رہتا ، اس کی یہ جستجو اس حد تک تھی کہ اس نے اپنی صحت کی پر واہ کیے بغیر انتھک محنت کی۔ 
اس کی اس محنت کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس کے حالات تبدیل ہو نے لگے اور اس کے گھر خوشیاں آنے لگیں ، اب اس کے گھر میں سہولت کی ہر چیز موجو د ہے ۔ کاروبار بھی کافی وسیع ہو گیا ہے ، اس نے اپنی ہلال روزی سے اپنی بہن کی شاد ی دھوم دھام سے کی اور محنت کی وجہ سے اپنی محنت کی کمائی سے ایک اچھا گھر بھی خرید لیا آج اس کے پاس گھر بھی ہے اور اپنی گاڑی بھی ہے اور دولت بھی ہے۔ 
اس کا کہنا ہے کہ اگر محنت کی جائے تو دنیا میں کوئی چیز حاصل کرنا مشکل نہیں انسا ن محنت اور لگن سے اپنی تقدیر بدل سکتا ہے اور شیر ازخان اس با ت کی مثال اور موں بولتا ثبوت ہے۔